مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال يجمع المسافر بين الصلاتين باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ مسافر دو نمازوں کو جمع کرسکتا ہے
حدیث نمبر: 8447
٨٤٤٧ - حدثنا ابن عيينة عن (عمرو) (١) (عن) (٢) جابر بن زيد عن ابن عباس قال: صليت مع رسول اللَّه ﷺ (ثمانيًا) (٣) جميعًا وسبعًا جميعًا قال: قلت يا أبا ⦗٢٨٧⦘ (الشعثاء) (٤) أظنه أخر الظهر وعجل العصر وأخر المغرب وعجل العشاء، قال: وأنا أظن ذلك (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعتیں ایک ساتھ اور سا ت رکعتیں ایک ساتھ پڑھی ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے ابو الشعثائ ! میرا خیال ہے کہ آپ نے ظہر کی نماز کو تاخیر سے اور عصر کی نماز کو جلدی پڑھا، اور مغرب کو تاخیر سے اور عشاء کو جلدی پڑھا۔ انہوں نے فرمایا کہ میرا بھی یہی خیال ہے۔
حواشی
(١) في [أ]: (عمر).
(٢) في [ص]: (بن).
(٣) في [ز، ك]: (ثمان)، وفي [ب]: (ثمانًا).
(٤) في [ب، ك]: (الشعثلي).