مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال لا (تقصر) (الصلاة) إلا في السفر البعيد باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ صرف لمبے سفر میں قصر کیا جائے گا
حدیث نمبر: 8369
٨٣٦٩ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي قلابة قال: حدثني رجل (ممن) (١) قرأ كتاب عثمان أو قرئ عليه فقال: أما جمعد فإنه بلغني أن رجالا منكم يخرجون إلى سوادهم، إما في (جشر) (٢) وإما في (جباية) (٣) وإما في تجارة (فيقصرون) (٤) الصلاة (و) (٥) لا يتمون الصلاة، فلا تفعلوا فإنما يقصر الصلاة من كان شاخصًا أو (بحضرة) (٦) عدو (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان نے اپنے ایک خط میں لکھا : اما بعد ! مجھے یہ خبر ملی ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ اپنے جانوروں کو چرانے کے لئے یا انہیں پانی پلانے کے لئے یا تجارت کے لئے شہر کے کناروں میں جاتے ہیں اور قصر نماز پڑھتے ہیں۔ وہ ایسا نہ کریں کیونکہ قصر نماز صرف وہی پڑھے گا جس نے دور کا سفر کرنا ہو یا دشمن سے مقابلہ کرنا ہو۔
حواشی
(١) في [أ، ك، ز]: (من).
(٢) في [ك]: (حشر)، وفي [هـ]: (خسر)، والمراد الخروج إلى المرعى.
(٣) في [أ، ب]: (حباية).
(٤) في [ك]: (قتقصرون)، وفي [ب]: (فيقصروا).
(٥) في [ز]: (أو).
(٦) في [ك]: (يحضره).
(٧) مجهول؛ لوجود الرجل المبهم.