مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في مسيرة كم يقصر الصلاة؟ باب: کتنی مسافت پر نماز میں قصر کیا جائے گا
حدیث نمبر: 8350
٨٣٥٠ - حدثنا وكيع قال: (أنا) (١) شعبة عن رجل يقال له شبيل عن أبي (حبرة) (٢) قال: قلت لابن عباس أقصر إلى (الأبلة) (٣) (فقال) (٤): تذهب وتجيء في ⦗٢٦٢⦘ يوم، قال: قلت نعم، قال: لا؛ إلا في يوم (متاح) (٥) (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حبرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا میں ابلہ کی طرف سفر کرتے ہوئے نماز میں قصر کروں ؟ انہوں نے فرمایا کہ تمہارا وہاں آناجانا ایک دن میں ہوجاتا ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا کہ تم قصر نہیں کرسکتے البتہ اگر (گرمیوں کا ) لمبا دن ہو تو پھر ایک دن کی مسافت پر قصر کرسکتے ہو۔
حواشی
(١) في [أ، ز]: (حدثنا)، وفي [ك]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، هـ]: (حرة)، وفي [ك]: (جمرة)، وهو موافق لما في التاريخ الكبير للبخاري ٤/ ٢٥٨، وسنن البيهقي ٣/ ١٣٧، والمحلى ٥/ ٦، وفي [ب، ص، ز]: (حبرة) وهو موافق لما في مسند علي من تهذيب الآثار (١٢٧٦)، الاستذكار ٢/ ٢٣٥، وقد أخرجه ابن عبد البر من طريق المؤلف؛ وفي غريب الحديث لابن قتيبة ٢/ ٣٣٥: (خيرة).
(٣) في [هـ]: (الأيلة).
(٤) في [ز]: (قال).
(٥) أي اليوم الطويل، وفي [ص]: (صاح).