مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
قوله (تعالى): ﴿ولا تجهر بصلاتك﴾ باب: ارشاد باری تعالى «وَلَا تَجْهَرُ بِصَلَاتِك »، اپنی دعا میں آواز کو اونچا مت کرو کی تفسیر
حدیث نمبر: 8310
٨٣١٠ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن الهجري عن أبي عياض قال: كان النبي (ﷺ) (١) إذا صلى عند البيت جهر بقراءته فكان المشركون يؤذونه فنزلت: ﴿وَلَا ⦗٢٥٤⦘ تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ الآية (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عیاض فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیت اللہ کے پاس نماز پڑھتے تو اپنی آواز کو بلند فرماتے ، جس پر مشرکین ان کو تکلیف دیا کرتے تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا }
حواشی
(١) ورد في [ك]: ﵇.