حدیث نمبر: 8298
٨٢٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا (يزيد) (١) بن هارون قال: ثنا (حريز) (٢) بن عثمان عن (راشد) (٣) بن (سعد) (٤) عن عاصم بن (حميد) (٥) السكوني وكان من ⦗٢٥١⦘ أصحاب معاذ (عن معاذ) (٦) بن جبل قال: (رقبنا) (٧) رسول اللَّه ﷺ في صلاة العشاء فخرج علينا فقال: "أعتموا بهذه الصلاة، فقد (فضلتم) (٨) بها على سائر الأمم، ولم (تصلها) (٩) أمة قبلكم" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ ہم نے ایک روز عشاء کی نماز کے لئے آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری کا بہت انتظار کیا، لیکن آپ نے اتنی دیر کردی کہ ایک آدمی کہنے لگا کہ آپ تشریف نہیں لائیں گے۔ اتنے میں آپ تشریف لائے تو ایک آدمی نے کہا کہ یا رسول اللہ ! ہمارا خیال یہ تھا کہ آپ نماز پڑھ چکے ہیں اور اب تشریف نہیں لائیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس رات کو اندھیرے میں پڑھا کرو، کیونکہ تمہیں ساری امتوں پر اس نماز کی وجہ سے فضیلت دی گئی ہے، تم سے پہلی امتیں یہ نماز نہیں پڑھتی تھیں۔

حواشی
(١) في [أ، ص، ز، ك]: (زيد).
(٢) في [أ، ب، ص، ز، ك]: (جرير).
(٣) في [ص]: (زائدة).
(٤) في [ص]: (جعد).
(٥) في [ص]: (عبد)، وفي [أ، ك، هـ]: (عبيد).
(٦) سقط من: [ط].
(٧) في [أ]: (يعشني)، وفي [س]: (بقينا).
(٨) في [أ، ب]: (فصتلم).
(٩) في [أ، هـ]: (يصلها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8298
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (٢٢٠٦٦)، وأبو داود (٤٢١)، والشاشي (١٣٦٩)، والطبراني ٢/ (٢٣٩)، وأبو نعيم في الحلية ٩/ ٢٣٨، والبيهقي ١/ ٤٥١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8298، ترقيم محمد عوامة 8167)