مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
الرجل يعطس في الصلاة ما يقول باب: اگر ایک آدمی کو نماز میں چھینک آئے تو وہ کیا کہے؟
٨٢٣٥ - حدثنا ابن علية عن حجاج الصواف عن يحيى بن أبي كثير عن هلال بن (أبي) (١) ميمونة عن عطاء بن يسار عن معاوية بن الحكم السلمي قال: بينا (أنا) (٢) أصلي مع النبي ﷺ إذ عطس رجل من القوم، فقلت: يرحمك اللَّه، فرمى القوم بأبصارهم فقلت: واثكل أماه ما شأنكم (تنظرون) (٣) إليّ قال: فجعلوا يضربون بأيديهم على أفخاذهم فلما رايتهم (ينصتوني) (٤) سكت فلما صلى رسول ⦗٢٣٦⦘ اللَّه ﷺ بأبي هو وأمي- ما رأيت مثله قبله ولا بعده أحسن تعليما منه واللَّه ما (نهرني) (٥) ولا شتمني ولا ضربني (قال) (٦): "إن هذه الصلاة لا يصلح فيها شيء من كلام الناس إنما (هي) (٧) التسبيح والتكبير وقراءة القرآن"، أو كما قال رسول اللَّه ﷺ (٨).حضرت معاویہ بن حکم سلمی فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک آدمی نے نماز میں چھینک ماری، میں نے اسے یرحمک اللہ کہا۔ لوگوں نے گھور کر مجھے دیکھنا شروع کردیا۔ میں نے کہا میری ماں مجھے گم کرے ! تم میری طرف کیوں دیکھ رہے ہو ؟ لوگوں نے اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں پر مارنا شروع کردیا۔ جب میں نے محسوس کیا کہ لوگ مجھے خاموش کر ارہے ہیں تو میں خاموش ہوگیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ادا فرمالی، میرے ماں باپ آپ پر قربان، میں نے آپ سے بہتر تعلیم دینے والا نہ کوئی پہلے دیکھا اور نہ بعد میں، آپ نے نہ مجھے ڈانٹا، نہ مجھے برا بھلا کہا، نہ مجھے مارا۔ پھر فرمایا کہ یہ نمازیں لوگوں کے کلام کی صلاحیت نہیں رکھتیں، نماز تو نام ہے تسبیح وتکبیر اور تلاوت کا۔