حدیث نمبر: 8219
٨٢١٩ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: كان يقول: إن الشيطان يجري في الإحليل (فينبض) (١) عند الدبر فيرى الرجل أنه قد أحدث فلا ينصرفن أحدكم حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا أو يرى بللًا.
مولانا محمد اویس سرور

ابراہیم فرمایا کرتے تھے کہ بعض اوقات شیطان آدمی کے آلۂ تناسل کے سوراخ سے داخل ہوکر دبر کے پاس حرکت دیتا ہے اور آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا۔ تم میں سے کوئی اس وقت تک نماز کو نہ توڑے جب تک آواز نہ سنے، بو محسوس نہ کرے یا اسے تری محسوس نہ ہو۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ز، ك، هـ]: (ينبض)، وفي [ص]: (يبض)، وهو الموافق لما في النهاية ١/ ١٣٢، وفي المراجع الآتية كلمة (ينقر)، وفي النهاية ١/ ١٣٢: (يبض).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8219
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8219، ترقيم محمد عوامة 8089)