حدیث نمبر: 8142
٨١٤٢ - حدثنا شبابة عن سليمان بن المغيرة عن ثابت عن أنس قال: قدمت من ⦗٢١٤⦘ العراق فقرب عشاء (أبي) (١) طلحة ومعه (من) (٢) شاء اللَّه من أصحاب النبي ﷺ فقال لي: هلم فكل، فقلت: حتى أصلي، فقال: قد أخذت بأخلاق أهل العراق هلم (فكل) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں عراق سے واپس آیا تو حضرت ابو طلحہ اور ان کے ساتھ موجود کچھ صحابہ کے پاس کھانا رکھا گیا۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ آؤ کھانا کھاؤ۔ میں نے کہا کہ میں نماز پڑھ کرکھاؤں گا۔ انہوں نے فرمایا کہ تم نے عراق والوں کی عادتیں اپنا لی ہیں آؤ کھانا کھاؤ۔

حواشی
(١) في [هـ]: (أبو).
(٢) في (ز): (ما).
(٣) في (ب): (كل).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8142
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8142، ترقيم محمد عوامة 8011)