مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من رخص في الصلاة في النعلين باب: جن حضرات کے نزدیک جوتیوں میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے
٨١٠٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن أبي نعامة عن أبي نضرة عن أبي سعيد الخدري أن رسول اللَّه ﷺ صلى فخلع نعليه فخلع الناس نعالهم فلما انصرف قال: "لم خلعتم نعالكم؟ " قالوا: يا رسول اللَّه رأيناك خلعت فخلعنا فقال: "إن (جبريل) (١) أتاني فأخبرني أن فيهما خبثا فإذا جاء أحدكم إلى المسجد فليقلب نعليه ولينظر (فيهما) (٢) (فإن رأى) (٣) فيهما خبثا فليمسحه بالأرض (وليصل) (٤) فيهما" (٥).حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں جوتے اتارے تو لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار لئے۔ جب آپ نے نماز مکمل کرلی تو لوگوں سے پوچھا کہ تم نے جوتے کیوں اتارے ؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ کو جوتے اتارتے دیکھا تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے۔ آپ نے فرمایا کہ جبریل میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ میرے جوتوں میں گندگی لگی ہے۔ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے آئے تو اپنے جوتوں کو الٹ پلٹ کر دیکھ لے، اگر ان میں گندگی لگی تو اسے زمین سے مل کر صاف کرلے اور انہی میں نماز پڑھ لے۔