مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
أي ساعة (تصلى) الضحى باب: چاشت کی نماز کس وقت ادا کی جائے گی ؟
حدیث نمبر: 8019
٨٠١٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا شريك عن دثار القطان عن الثعمان بن (نافذ) (١) أن عليا خرج فرأى قوما يصلون الضحى عند طلوع الشمس فقال: ما لهم نحروها نحرهم اللَّه فهلا تركوها حتى إذا كانت (بالجبين) (٢) صلوا فتلك صلاة الأوابين (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن نافذ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو دیکھا جو طلوع شمس کے وقت چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ انہوں نے اس نماز کو جلدی پڑھ لیا اللہ تعالیٰ انہیں خیر بھی جلدی عطا فرمائے، اگر یہ سورج کے بلند ہونے کے بعد اسے ادا کرتے تو اچھا ہوتا کیونکہ اس وقت کی نماز اوابین (اللہ کی طرف رجوع کرنے والے نیک بندوں) کی نماز ہے۔
حواشی
(١) في [ب]: (ما قد)؛ وفي [أ، هـ]: (ناقد).
(٢) في [هـ]: (بالحنين)، وفي [ص]: (بالحثين)، وانظر: طرح التثريب (٣/ ٦٤).
(٣) مجهول؛ النعمان مجهول.