حدیث نمبر: 7949
٧٩٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: ثنا عبد اللَّه بن الوليد قال: أخبرني عمر بن أيوب قال: أخبرني أبو إياس معاوية بن (قرة) (٢) قال: كنت نازلًا على عمرو بن النعمان بن مقرن فلما حضر رمضان جاءه رجل بألفي درهم من قبل مصعب بن الزبير فقال: إن الأمير يقرئك السلام ويقول: إنا لم ندع قارئا (شريفا) (٣) إلا قد وصل إليه منا معروف، فاستعن بهذين على نفقة شهرك هذا، فقال عمرو: اقرأ على الأمير السلام، وقل: واللَّه ما قرأنا القرآن نريد به الدنيا ورده عليه.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو ایاس معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ میں عمرو بن نعمان بن مقرن کے یہاں مہمان تھا، جب رمضان کا مہینہ آیا تو ایک آدمی ان کے پاس مصعب بن زبیر کی طرف سے دو ہزار درہم لے کر آیا اور اس نے کہا کہ امیر آپ کو سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ہم نے ہر قابل احترام قاری کو اپنی طرف سے یہ ہدیہ دیا ہے، آپ اس مہینے میں اپنی ضروریات ان پیسوں سے پوری کیجئے۔ حضرت عمرو نے اس سے فرمایا کہ اپنے امیر کو ہماری طرف سے سلام کہنا اور ان سے یہ بھی کہنا کہ بخدا ! ہم نے قرآن کو دنیا حاصل کرنے کے لئے نہیں پڑھا ہے۔ یہ کہہ کر وہ رقم اسے واپس کردی۔

حواشی
(١) في [ص]: (بشير).
(٢) (قزة) في: [ك]، و (مرة) في: [ص].
(٣) سقط من: [أ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7949
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7949، ترقيم محمد عوامة 7820)