مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الرجل يقوم بالناس في رمضان فيعطى باب: تراویح کے بدلے ملنے والی اجرت یا ہدیہ کا بیان
٧٩٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: ثنا عبد اللَّه بن الوليد قال: أخبرني عمر بن أيوب قال: أخبرني أبو إياس معاوية بن (قرة) (٢) قال: كنت نازلًا على عمرو بن النعمان بن مقرن فلما حضر رمضان جاءه رجل بألفي درهم من قبل مصعب بن الزبير فقال: إن الأمير يقرئك السلام ويقول: إنا لم ندع قارئا (شريفا) (٣) إلا قد وصل إليه منا معروف، فاستعن بهذين على نفقة شهرك هذا، فقال عمرو: اقرأ على الأمير السلام، وقل: واللَّه ما قرأنا القرآن نريد به الدنيا ورده عليه.حضرت ابو ایاس معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ میں عمرو بن نعمان بن مقرن کے یہاں مہمان تھا، جب رمضان کا مہینہ آیا تو ایک آدمی ان کے پاس مصعب بن زبیر کی طرف سے دو ہزار درہم لے کر آیا اور اس نے کہا کہ امیر آپ کو سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ہم نے ہر قابل احترام قاری کو اپنی طرف سے یہ ہدیہ دیا ہے، آپ اس مہینے میں اپنی ضروریات ان پیسوں سے پوری کیجئے۔ حضرت عمرو نے اس سے فرمایا کہ اپنے امیر کو ہماری طرف سے سلام کہنا اور ان سے یہ بھی کہنا کہ بخدا ! ہم نے قرآن کو دنیا حاصل کرنے کے لئے نہیں پڑھا ہے۔ یہ کہہ کر وہ رقم اسے واپس کردی۔