مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كره أن يقول انصرفنا باب: جو حضرات اس جملہ کو مکروہ خیال فرماتے ہیں " ہم نماز سے پھر گئے"
حدیث نمبر: 7815
٧٨١٥ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عمير بن يريم أبي هلال قال: سمعت ابن عباس يقول: لا (تقولوا) (١) انصرفنا من الصلاة؛ فإن قومًا انصرفوا فصرف اللَّه قلوبهم، ولكن قولوا قد قضيت الصلاة (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ نہیں کہنا چاہئے کہ ہم نماز سے پھرگئے، کیونکہ جو لوگ نماز سے پھرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو پھیر دیتا ہے۔ تمہیں یوں کہنا چاہئے کہ نماز ادا کرلی گئی۔
حواشی
(١) في [ك، ز]: (تقول)، وفي [س]: (يقول).
(٢) مجهول؛ لجهالة عمير، أخرجه ابن جرير في التفسير ١١/ ٧٥، والبخاري في التاريخ ٦/ ٥٣٦.