کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: جو حضرات اس جملہ کو مکروہ خیال فرماتے ہیں " ہم نماز سے پھر گئے"
❮
❯
٧٨١٥ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عمير بن يريم أبي هلال قال: سمعت ابن عباس يقول: لا (تقولوا) (١) انصرفنا من الصلاة؛ فإن قومًا انصرفوا فصرف اللَّه قلوبهم، ولكن قولوا قد قضيت الصلاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ نہیں کہنا چاہئے کہ ہم نماز سے پھرگئے، کیونکہ جو لوگ نماز سے پھرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو پھیر دیتا ہے۔ تمہیں یوں کہنا چاہئے کہ نماز ادا کرلی گئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7815
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7815، ترقيم محمد عوامة 7687)
٧٨١٦ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن أبي معشر عن إبراهيم أنه كان لا يرى بذلك بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس جملہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7816
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7816، ترقيم محمد عوامة 7688)
٧٨١٧ - حدثنا عفان ثنا سعيد بن زيد قال: ثنا الزبير بن الخريت عن عكرمة عن ابن عمر قال: لا يقال: انصرفنا من الصلاة، ولكن قد قضيت الصلاة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یوں نہیں کہنا چاہئے کہ ہم نماز سے پھرگئے، بلکہ یہ کہناچاہئے کہ نماز ادا کرلی گئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7817
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سعيد بن زيد صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7817، ترقيم محمد عوامة 7689)