مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الصلاة خلف الأمراء باب: امراء کے پیچھے نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 7776
٧٧٧٦ - حدثنا وكيع (١) ثنا (بسام) (٢) قال: سألت أبا جعفر عن الصلاة مع الأمراء فقال: صل معهم فإنا نصلي معهم قد كان الحسن والحسين يبتدران الصلاة خلف مروان قال: (فقلت) (٣) الناس يزعمون أن ذلك تقية، قال: وكيف إن كان الحسن بن علي (يسب) (٤) مروان في وجهه وهو على المنبر حتى تولى (٥) (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت بسام کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر سے سوال کیا کہ ائمہ کے پیچھے نماز پڑھی جائے گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ ان کے ساتھ نماز پڑھ لو، کیونکہ ہم بھی ان کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ حضرت حسن اور حضرت حسین مروان کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ” تقیہ “ تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ مروان کو منبر پر اس کے سامنے برا بھلا کہا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ والی بن گیا۔
حواشی
(١) في [أ] زيادة: (حدثنا سفيان عن العلاء بن المسيب عن رجل عن).
(٢) في [هـ]: (بستام)، وفي [ل]: (بسطام).
(٣) في [أ، ك]: (قلت).
(٤) في [س، ل]: (ليسب).
(٥) في [ل]: (يولي).
(٦) منقطع؛ أبو جعفر لم يسمع من الحسن والحسين.