مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الصلاة عند قبر النبي ﷺ وإتيانه باب: نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک کے پاس آنے اور یہاں درود پڑھنے کا بیان
٧٧٥٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن المعرور بن سويد قال: خرجنا مع عمر في حجة حجها، فقرأ بنا في الفجر: ﴿أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ﴾ و ﴿لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ﴾، فلما قضى حجه ورجع والناس يبتدرون فقال: ما هذا؟ فقالوا: مسجد صلى فيه رسول اللَّه ﷺ فقال: هكذا هلك أهل الكتاب، اتخذوا آثار أنبيائهم بيعًا، من عرضت له منكم فيه الصلاة فليصل، ومن لم تعرض له منكم فيه الصلاة فلا يصل (١).حضرت سوید فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمر کے ساتھ ایک حج کے لئے گئے۔ انہوں نے فجر کی نماز میں سورة الفیل اور سورة القریش کی تلاوت فرمائی۔ جب آپ نے حج پورا کرلیا اور واپس آرہے تھے تو کسی جگہ جا کر لوگ تیزی سے بھاگے۔ حضرت عمر نے پوچھا یہاں کیا ہے ؟ آپ کو بتایا گیا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ اہل کتاب اسی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے، انہوں نے اپنے انبیاء کے آثار کو مسجدیں بنا لیا تھا۔ ہونا یہ چاہئے کہ اگر تمہیں یہاں نماز کا وقت ہوجائے تو نماز پڑھ لو اور وقت نہ ہو تو نماز نہ پڑھو۔