حدیث نمبر: 775
٧٧٥ - حدثنا عبد الرحيم عن إسماعيل عن الزهري قال: كان أبو سلمة بن عبد الرحمن (يستسر) (١) على أهله؛ فيكره أن (يعلموا) (٢) به، [وكان يغسل جسده إلى حلقه ويكره أن يغسل رأسه؛ فيعلموا به] (٣)، فيأتي أهله، فيقول: إني لأجد في رأسي، فيدعو بالخطمي فيغسله.مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن جب اپنی زوجہ سے شرعی ملاقات فرماتے تو اس بات کو ناپسند خیال کرتے تھے کہ لوگوں کو اس کا علم ہو۔ چناچہ وہ حلق تک غسل کرلیتے لیکن سر دھونا انہیں پسند نہ تھا کہ بال گیلے دیکھ کر لوگوں کو اندازہ ہوجائے گا۔ پھر وہ گھر والوں کے پاس آتے اور کہتے میرے سر میں درد ہے، پھر خطمی نامی بوٹی منگوا کر سر دھو لیتے۔
حواشی
(١) أَي: يطأ مملوكته، وفي [ك، هـ]: (يستتر).
(٢) في [أ، خ]: (يعلمون).
(٣) زيادة في [أ، خ]: (قال).