مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كان يكره الصلاة بين السواري باب: جو حضرات دو ستونوں کے درمیان نماز کو مکروہ خیال فرماتے ہیں
حدیث نمبر: 7704
٧٧٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع قال: نا سفيان عن يحيى بن هانئ بن عروة المرادي عن عبد الحميد بن محمود قال: صلينا خلف أمير من الأمراء (فاضطرنا) (١) الناس حتى صلينا بين ساريتين، فلما صلينا قال أنس بن مالك: كنا نتقي هذا على عهد رسول اللَّه ﷺ (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الحمید بن محمود فرماتے ہیں کہ ہم نے ایک امیر کے پیچھے نماز پڑھی، رش کی وجہ سے ہمیں دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھنا پڑی، جب ہم نماز پڑھ چکے تو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں ہم اس سے بچا کرتے تھے۔
حواشی
(١) في [أ، ط، هـ]: (فاضطرب).