مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال البصاق في المسجد خطيئة باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ مسجد میں تھوکنا گناہ ہے
حدیث نمبر: 7667
٧٦٦٧ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد عن (مكحول) (١) أن ابن (عمر) (٢) تنخع أو (بزق) (٣) في المسجد فنسي أن يواريها حتى أتى منزله فذكر بعد انصرافه فرجع بسراج فالتمسها في المسجد حتى واراها، ثم قال: من بصق في المسجد فهي خطيئة وتوبته أن يواريها (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مسجد میں تھوکا تھا لیکن وہ اسے مٹی میں دبانا بھول گئے، جب گھر پہنچ کر یاد آیا تو چراغ لے کر اسے دبانے کے لئے گئے۔ اسے تلاش کرکے دبایا اور پھر فرمایا کہ مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کی توبہ یہ ہے اسے دبا دیا جائے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (مكحول).
(٢) في [ب]: (حمر).
(٣) في [ك]: (بسق).
(٤) منقطع؛ مكحول لم يسمع من ابن عمر.