مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كره أن يبزق تجاه المسجد باب: جن حضرات کے نزدیک مسجد میں بلغم ڈالنا یا تھوکنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 7657
٧٦٥٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن سوقة عن نافع عن ابن عمر ⦗٩٩⦘ قال: إذا بزق في القبلة جاءت (أحمى) (١) ما (تكون) (٢) يوم القيامة حتى تقع بين عينيه (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس شخص نے قبلے کی طرف رخ کرکے تھوک پھینکی تو اس کی تھوک قیامت کے دن گرم کرکے اس کی آنکھوں کے درمیان ملی جائے گی۔
حواشی
(١) في [هـ]: (أحمر).
(٢) في [أ، هـ]: (يكون).