حدیث نمبر: 7654
٧٦٥٤ - حدثنا وكيع قال: نا الأعمش عن أبي وائل عن حذيفة، قال: إن العبد المسلم إذا توضأ فأحسن الوضوء ثم قام يصلي أقبل اللَّه عليه بوجهه حتى يكون هو الذي ينصرف أو يحدث حدث سوء، فلا يبزق بين يديه ولا عن يمينه (فإن عن يمينه) (١) كاتب الحسنات، ولكن يبزق عن (يساره) (٢) أو خلف ظهره (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب مسلمان بندہ اچھی طرح وضو کرتا ہے اور نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ جب تک وہ نماز سے فارغ نہ ہوجائے یا جب تک اسے حدث نہ لاحق ہوجائے۔ لہٰذا اسے اپنے سامنے اور اپنے بائیں طرف نہیں تھوکنا چاہئے کیونکہ دائیں طرف نیکیاں لکھنے والا فرشتہ ہے۔ بلکہ اسے چاہئے کہ بائیں طرف تھوکے یا اپنے پیچھے تھوکے۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ك].
(٢) في [ز]: (شماله).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7654
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7654، ترقيم محمد عوامة 7532)