مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كره أن يبزق تجاه المسجد باب: جن حضرات کے نزدیک مسجد میں بلغم ڈالنا یا تھوکنا مکروہ ہے
٧٦٥٠ - حدثنا ابن علية عن القاسم بن مهران عن أبي رافع عن أبي هريرة أن رسول اللَّه ﷺ رأى نخامة في قبلة المسجد، فأقبل على الناس بوجهه فقال: "ما بال أحدكم يقوم مستقبل ربه فيتنخع (أمامه؛ أيحب أحدكم أن يستقبل، ⦗٩٧⦘ فيتنخع) (١) في وجهه (٢)، إذا (تنخع) (٣) أحدكم (فليتنخع) (٤) عن يساره أو تحت (قدمه) (٥)، فإن لم يجد (فليقل) (٦) هكذا في ثوبه"، ثم أرانا إسماعيل أنه يبزق في ثوبه ثم يدلكه (٧).حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب تھوک دیکھی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ ان لوگوں کو کیا ہوا جو اپنے رب کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوتے ہیں اور پھر اس کے سامنے تھوکتے ہیں ؟ ! کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ کوئی اس کی جانب منہ کرکے تھوکے ؟ اگر کسی کو تھوکنا ہی ہے تو اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے یا اپنی بائیں جانب تھوکے۔ اگر جلدی ہو تو اپنے کپڑے میں تھو ک لے۔ یہ فرما کر راوی اسماعیل نے اپنے کپڑے میں تھوک کر اسے مل کر دکھایا۔