مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كرهه باب: جن حضرات نے نماز کے لئے جاتے ہوئے جلدی جلدی چلنے کو مکروہ قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 7606
٧٦٠٦ - حدثنا معن بن عيسى عن خالد بن أبي بكر عن (نهية) (١) حاضنة بني (عبيد اللَّه) (٢)، (قالت) (٣): سمعت الإقامة فاسرعت، فمررت بعلي بن حسين وأنا (مسرعة) (٤) فجذب ثوبي، وقال: أمش على رسلك (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت بہینہ کہتی ہیں کہ میں نے اقامت کی آواز سنی تو تیز تیز چل کر جانے لگی۔ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین کے پاس سے گذری تو انہوں نے میرا کپڑا کھینچ کر فرمایا کہ اپنی معمول کی چال چل کر نماز کے لئے جاؤ۔
حواشی
(١) في [هـ]: (بهية)، وفي [ز]: (بهينة)، وفي [أ]: (بهيسة)، وانظر: توضيح المشتبه (١/ ٦٢٦)، والإكمال ١/ ٣٧٧، والإصابة ٨/ ١٠١ (١١٧٠٤).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (عبد اللَّه).
(٣) في [ب]: (قال).
(٤) في [هـ]: (مسرع).