مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال: لا صلاة بعد الفجر باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ فجر کے بعد نماز نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 7521
٧٥٢١ - حدثنا أبو أسامة وابن نمير عن (سعد) (١) بن سعيد قال: أخبرتني عمرة عن عائشة قالت: نهى رسول اللَّه ﷺ عن صلاتين عن (صلاة) (٢) بعد طلوع الفجر حتى [تطلع الشمس وترتفع فإنها تطلع بين قرني (الشيطان، وتغيب بين قرني ⦗٦٧⦘ الشيطان) (٣) وعن صلاة بعد العصر حتى تغيب الشمس] (٤) (٥) (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونمازوں سے منع فرمایا ہے، ایک تو فجر کے بعد اس وقت تک جب تک سورج طلوع ہو کر اچھی طرح بلند نہ ہوجائے۔ کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے اور انہی کے درمیان غروب ہوتا ہے۔ اور عصر کے بعد جب تک سورج غروب نہ ہوجائے۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، ز، ك].
(٢) في [أ، ب]: (الصلاة).
(٣) في [ط، هـ]: (شيطان).
(٤) سقط ما بين المعكوفين من: [أ].
(٥) في [هـ]: زيادة (فإنها تغيب بين قرني شيطان).