حدیث نمبر: 7356
٧٣٥٦ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم بن أبي النجود عن شقيق عن مسروق عن عائشة قالت: أغمي على النبي ﷺ فلما أفاق قال: "أصل الناس؟ " (قالت) (١): فقلنا: لا، قال: "مروا أبا بكر فليصل بالناس"، قالت: فقلنا: يا رسول اللَّه (٢) إن أبا بكر رجل أسيف -قال: " (٣) عاصم الأسيف الرقيق الرحيم- وأنه متى (يقم) (٤) مقامك لا يستطيع أن يصلي بالناس"، قالت: ثم أغمي عليه ثم أفاق فقال مثل ذلك فرددت عليه ثلاث مرات فقال: "إنكن صواحب يوسف مروا أبا بكر فليصل بالناس"، فقالت: فوجد النبي ﷺ من نفسه خفة، فخرج بين بريرة و (توبة) (٥) (تخط) (٦) ⦗٣٤⦘ نعلاه إني (لأرى) (٧) (بياض) (٨) (بطون) (٩) قدميه وأبو بكر يؤم الناس فلما رآه أبو بكر ذهب يتأخر فأومأ إليه رسول اللَّه ﷺ أن لا يتأخر (قالت) (١٠): فقام أبو بكر بجنب النبي ﷺ (والنبي ﷺ) (١١) قاعد، يصلي أبو بكر بصلاة النبي ﷺ والناس يصلون بصلاة أبي بكر (١٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مرض الوفات میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی طاری ہوئی، جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے پوچھا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ؟ ہم نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ ! وہ انتہائی نرم دل اور مہربان آدمی ہیں، جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہ پڑھاسکیں گے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی طاری ہوئی، جب افاقہ ہوا تو آپ نے پھر وہی بات فرمائی، میں نے آپ کو تین مرتبہ جواب دیا تو آپ نے فرمایا کہ تم یوسف کے پاس موجود عورتوں کی طرح ہوں، ابوبکر کو کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے جسم مبارک میں کچھ خفت محسوس کی، آپ بریرہ اور نوبہ کے سہارے سے باہر تشریف لے گئے، جسم مبارک میں کمزوری کی وجہ سے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے اور میں آپ کے تلووں کی سفیدی کو دیکھ رہی تھی۔ اس وقت ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ جب انہوں نے آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ تو پیچھے ہٹنے لگے۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارے سے انہیں وہیں کھڑے رہنے کا حکم دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امامت میں نماز ادا کررہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر کی اقتداء کررہے تھے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ز، ك]: (قال).
(٢) في [هـ]: زيادة (ﷺ).
(٣) في [أ، ب، ك]: زيادة (أبو).
(٤) في [أ، هـ]: (يقوم).
(٥) كذا في النسخ بالتاء، وانظر: مقدمة فتح الباري ص ٢٦٣، وورد أنه بالنون (نوبة) كما في صحيح ابن حبان (٢١١٨)، والمعرفة ١/ ٢٣٨، وفتح الباري ٤/ ١٥٤، ورجح أنه رجل، وكذا في عمدة القاري ٥/ ١٩٠، والإكمال ١/ ٣٧٣، وتوضيح المشتبه ١/ ٦٧١، والإصابة ٨/ ١٤٤، وعدّها مع النساء، وكذا في أسد الغابة ٥/ ٣٨٩.
(٦) في [هـ]: (يخط).
(٧) سقطت من: [أ، ب].
(٨) سقط من: [هـ].
(٩) سقط من: [هـ].
(١٠) في [أ، ب، ك، ز] زيادة: (قالت).
(١١) سقط من: [ل].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7356
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عاصم في ضعيف في شقيق، أخرجه ابن حبان (٢١١٨)، ويعقوب في المعرفة ١/ ٤٥٣، وانظر ما بعده برقم [٧٣٥٧] ورقم [٧٣٥٨].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7356، ترقيم محمد عوامة 7244)