مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في فعل النبي ﷺ باب: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے صحابہ کی امامت میں نماز پڑھنا
٧٣٥٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد قال: سمعت أبا سلمة ابن عبد الرحمن يحدث أن النبي ﷺ اشتكى فقال: "مروا أبا بكر فليصل بالناس" فوجد النبي ﷺ من نفسه خفة (فخرج) (١) فلما رآه أبو بكر ذهب ليتأخر، فأومأ إليه النبي ﷺ مكانك فجاء النبي ﷺ حتى جلس إلى جنب أبي بكر، فكان أبو بكر يأتم بالنبي ﷺ والناس يأتمون بأبي بكر (٢).حضرت ابو سلمہ بن عبدا لرحمن فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرض الوفات کا شکار ہوئے تو آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ کچھ دیر آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے جسم مبارک میں خفت محسوس کی تو آپ باہر تشریف لے آئے۔ جب حضرت ابوبکر نے آپ کو تشریف لاتے دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارے سے انہیں اپنی جگہ کھڑے رہنے کا حکم فرمایا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آکر حضرت ابوبکر کے ساتھ بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے۔