مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الإمام يصلي جالسا باب: اگر امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کیا کریں؟
حدیث نمبر: 7326
٧٣٢٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن محمد بن عجلان عن زيد بن أسلم عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنما جعل الإمام ليؤتم به، فإذا كبر فكبروا، وإذا قرأ فأنصتوا وإذا قال: ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ فقولوا: آمين (وإذا) (١) ركع فاركعوا وإذا قال: سمع اللَّه لمن حمده فقولوا: اللهم ربنا لك الحمد وإذا سجد فاسجدوا وإذا صلى ⦗٢٥⦘ جالسا فصلوا جلوسا" (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ امام اس لئے بنایا جاتا ہے تاکہ تم اس کی اقتداء کرو، جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو، جب وہ غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ ، وَلاَ الضَّالِّینَ کہے تو تم آمین کہو۔ جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو۔ جب وہ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہو۔ جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حواشی
(١) في [ب]: (فإذا).