مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الإمام يصلي جالسا باب: اگر امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کیا کریں؟
٧٣٢٤ - حدثنا عبدة عن هشام عن أبيه عن عائشة قالت: اشتكى رسول اللَّه ﷺ فدخل ناس من أصحابه يعودونه فصلى رسول اللَّه ﷺ جالسًا فصلوا بصلاته قياما ⦗٢٤⦘ (فأشار) (١) إليهم أن اجلسوا فجلسوا فلما انصرف قال: "إنما جعل الإمام ليؤتم به فإذا ركع فاركعوا وإذا رفع فارفعوا وإذا صلى جالسًا فصلوا جلوسًا" (٢).حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ بیمار ہوگئے تو آپ کے کچھ صحابہ آپ کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے۔ اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا تو آپ نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی۔ وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اشارے سے کہا کہ بیٹھ کر نماز پڑھیں۔ چناچہ وہ بیٹھ گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مکمل کرلی تو فرمایا امام اس لئے بنایا جاتا ہے تاکہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی رکوع سے سر اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔