حدیث نمبر: 7282
٧٢٨٢ - حدثنا معاذ بن معاذ عن أبي حرة قال: دخلت أنا وعبد اللَّه بن حميد مسجدًا وقد صلي فيه (فقال) (١): ألا (تجيء) (٢) حتى (نصلي) (٣) في جماعة؟ قلت: إن بعضهم قد كره ذلك، قال: كان أبي لا يرى بذلك بأسا.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو حرہ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت عبد اللہ بن حمید مسجد میں داخل ہوئے وہاں نماز ہوچکی تھی۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ آؤ جماعت کرا لیتے ہیں۔ میں نے کہا کہ کچھ لوگ اسے مکروہ سمجھتے ہیں۔ وہ فرمانے لگے کہ میرے والد تو اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (قال).
(٢) في [ب]: (يجئ).
(٣) في [ب]: (يصلي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7282
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7282، ترقيم محمد عوامة 7171)