مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كان لا يقنت في الفجر باب: جو حضرات فجر کی نماز میں دعائے قنوت نہیں پڑھا کرتے تھے
حدیث نمبر: 7152
٧١٥٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن إبراهيم عن سليم أبي الشعثاء المحاربي قال: (سألت) (١) ابن عمر عن القنوت في الفجر فقال (فأي) (٢) شيء القنوت؟ قلت: (يقوم) (٣) الرجل ساعة بعد القراءة فقال ابن عمر: ما شعرت (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیم ابو الشعثاء محاربی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے فجر کی نماز میں دعائے قنوت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ قنوت کیا چیز ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ قنوت یہ ہے کہ آدمی قراءت کے بعد کچھ دیر ٹھہر کر دعا کرے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں اسے کچھ نہیں سمجھتا۔
حواشی
(١) في [أ]: (سمعت).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) في [ز]: (يقول).