مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال يوتر وإن أصبح وعليه قضاؤه باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ وتروں کی قضاء لازم ہے
حدیث نمبر: 6971
٦٩٧١ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن خالد بن (أبي) (١) كريمة عن معاوية بن قرة قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه إني أصبحت ولم أوتر فقال: "إنما الوتر بالليل"، ثم قال: يا رسول اللَّه إني أصبحت ولم أوتر فقال: "إنما الوتر بالليل"، ثم قال: إني أصبحت ولم أوتر قال في الثالثة أو الرابعة: "فأوتر" (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن قرہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا اے اللہ کے رسول ! میں نے صبح کرلی اور میں نے وتر نہیں پڑھے۔ آپ نے فرمایا کہ وتر تو رات کو ہوتے ہیں۔ اس نے پھر کہا کہ میں نے صبح کردی اور وتر ادا نہیں کئے۔ آپ نے پھر فرمایا کہ وتر تو رات کو ہوتے ہیں۔ اس نے تیسری مرتبہ کہا کہ میں نے صبح کردی لیکن وتر نہیں پڑھے۔ آپ نے پھر فرمایا کہ وتر تو رات کو ہوتے ہیں۔ جب اس نے چوتھی مرتبہ وہی بات کی تو آپ نے فرمایا کہ پھر وتر پڑھ لو۔
حواشی
(١) سقط من: [ب].