مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال يوتر وإن أصبح وعليه قضاؤه باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ وتروں کی قضاء لازم ہے
حدیث نمبر: 6968
٦٩٦٨ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن ابن عون عن محمد قال: قلت له: الرجل (ينام) (١) (فيصبح) (٢) (يوتر) (٣) بعد ما يصبح بركعة قال: لا أعلم به بأسًا.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے محمد سے سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی سو جائے اور صبح کا وقت ہوجائے، کیا وہ صبح ہونے کے بعد ایک رکعت وتر پڑھ سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔
حواشی
(١) سقط من: [ب، هـ].
(٢) سقط من: [ب].
(٣) في [أ، ك]: (فيوتر).