مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من رخص في ذلك باب: جن حضرات نے عشاء کے بعد گفتگو کی رخصت دی ہے
حدیث نمبر: 6857
٦٨٥٧ - حدثنا عباد بن عوام عن ليث عن أبي بكر (بن) (١) أبي موسى أن أبا موسى أتى عمر بن الخطاب بعد العشاء قال: فقال له عمر بن الخطاب: ما جاء بك قال: جئت (أتحدث) (٢) إليك قال: هذه الساعة؟ قال: إنه فقه، فجلس عمر (فتحدثا) (٣) ليلًا طويلًا حسبته قال: ثم إن أبا موسى قال: الصلاة يا أمير المؤمنين قال: إنا في صلاة (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن ابی موسیٰ کہتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ عشاء کے بعد حضرت عمر بن خطاب کے پاس آئے۔ حضرت عمر بن خطاب نے ان سے فرمایا کہ آپ کیوں آئے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ میں آپ سے کچھ باتیں کرنے آیا ہوں۔ حضرت عمر نے کہا اس وقت ؟ حضرت ابو موسیٰ نے کہا کہ دین کا مسئلہ ہے۔ اس پر حضرت عمر ان کے ساتھ بیٹھ گئے اور دونوں نے پوری رات باتیں کیں۔ پھر حضرت ابو موسیٰ نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین ! نماز کا وقت ہوگیا۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا کہ ہم نماز میں ہی تھے۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (عن).
(٢) في [ز]: (أحدث).
(٣) في [أ]: (فتحدث).