حدیث نمبر: 6810
٦٨١٠ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا يونس عن الحكم بن الأعرج قال: أتيت على ابن عمر والناس في (صلاة) (١) الظهر، فظننته (على) (٢) غير طهر فقلت (له) (٣): يا أبا عبد الرحمن (آتيك) (٤) بطهر؟ قال: إني على طهارة وقد صليت فبأيهما احتسب؟.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا اس وقت لوگ ظہر کی نماز پڑھ رہے تھے۔ میں سمجھا کہ ان کا وضو نہیں ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ اے ابو عبدا لرحمن ! میں آپ کے لئے وضو کا پانی لے آؤں ؟ انہوں نے کہا کہ میرا وضو ہے اور میں نماز پڑھ چکا تھا، میں ان دونوں میں سے کس کو شمار کروں ؟ یونس کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا ذکر حسن سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمن پر رحم فرمائے ! انہوں نے پہلی ادا کی گئی نماز کو فرض اور اس کو نفل بنادیا۔

حواشی
(١) في [ب]: (صلاتهم).
(٢) في [ب]: (في).
(٣) سقط من [أ، ز].
(٤) في [هـ]: (أتيتك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6810
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6810، ترقيم محمد عوامة 6709)