حدیث نمبر: 6779
٦٧٧٩ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن سعيد بن أبي بردة عن أبيه أن معاذًا قال لأبي موسى: كيف تقرأ القرآن؟ قال: أتفوقه (تفوقا) (١) فقال له أبو موسى: فكيف تقرؤه أنت يا معاذ؟ قال: أنام أول الليل (و) (٢) أتقوى به على آخره وإني لأرجو الأجر في رقدتي كما أرجوه في يقظتي (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت معاذ نے حضرت ابو موسیٰ سے کہا کہ آپ قرآن کیسے پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں وقفے وقفے سے اس کی تلاوت کرتا ہوں، سارا معمول ایک ہی وقت میں پورا نہیں کرلیتا۔ پھر حضرت معاذ نے حضرت ابو موسیٰ سے پوچھا کہ آپ قرآن کیسے پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں رات کے ابتدائی حصہ میں سو جاتا ہوں تاکہ رات کے آخری حصہ میں اٹھنے کی طاقت حاصل کرسکوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مجھے اس سونے میں بھی اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنا کہ جاگنے میں۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ز، ك، هـ]: (تفوقًا).
(٢) سقط من: [أ، ب، ك].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6779
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو بردة تابعي، أخرجه البخاري (٤٣٤١)، ومسلم (١٧٣٣)، لكن ورد عندهما بعض الخبر من طريق أبي بردة عن أبيه.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6779، ترقيم محمد عوامة 6678)