مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال: صل فيها قائما باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ کشتی میں کھڑے ہو کر نماز پڑھو
حدیث نمبر: 6733
٦٧٣٣ - حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة قال: سألت إبراهيم عن الصلاة في السفينة فقال: إن (استطاع) (١) أن يخرج فليخرج وإلا فليصل قائمًا (فإن) (٢) استطاع ⦗٤٣٧⦘ وإلا فليصل قاعدًا ويستقبل القبلة (كلما تحرفت) (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے کشتی میں نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر کشتی سے باہر نماز پڑھنے کی طاقت رکھتا ہو تو باہر نماز پڑھے، وگرنہ کشتی میں کھڑے ہو کر نماز پڑھے۔ اگر کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر پڑھ لے۔ البتہ جب کبھی کشتی کا رخ قبلے سے تبدیل ہو تو یہ اپنے رخ کو بھی پھیر لے۔
حواشی
(١) في [أ]: (استطعت).
(٢) في [أ]: (فإذا)، وفي [هـ]: (إن).
(٣) في [أ]: (كما تحرقت).