حدیث نمبر: 6637
٦٦٣٧ - حدثنا هشيم قال: حدثنا يونس عن عمرو بن سعيد قال: رأيت أبا ⦗٤١٧⦘ العالية دخل المسجد فصلى (بهم) (١) وعليه قلنسوة (بطانتها) (٢) جلود (الثعالب) (٣) فأخذها من رأسه ووضعها في كمه فلما قضى صلاته قال: قلت له: رأيتك أخذت قلنسوتك من رأسك فوضعتها في (كمك، فقال: إني كرهت) (٤) أن أصلي فيها وكرهت أن أضعها فتسرق فلذلك جعلتها في كم قميصي.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمرو بن سعید کہتے ہیں کہ حضرت ابو عالیہ ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے، ان کے سر پر لومڑی کی کھال کی بنی ٹوپی تھی۔ جب وہ نماز پڑھنے لگے تو اس ٹوپی کو اتار کر اپنی آستین میں رکھ لیا۔ جب انہوں نے نماز مکمل فرمالی تو میں نے کہا آپ نے اپنی ٹوپی کو اتار کر اپنی آستین میں کیوں رکھ لیا ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اس میں نماز پڑھنا بھی پسند نہ کیا اور اس کو رکھنا بھی مجھے گوارا نہ ہوا کہ کہیں چوری نہ ہوجائے۔ لہٰذا میں نے اسے اپنی آستین میں ڈال لیا۔

حواشی
(١) في [ز]: (فيه).
(٢) في [ك]: (بطاتها).
(٣) في [أ، ك، ز]: (ثعالب).
(٤) في [ب]: بياض.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6637
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6637، ترقيم محمد عوامة 6540)