مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في التساند إلى القبلة والاحتباء باب: فجر کی سنتوں کے بعد قبلے کی طرف ٹیک لگا کر بیٹھنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 6593
٦٥٩٣ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا حصين عن مجاهد قال: (كان) (١) ابن عمر إذا طلع الفجر (صلى) (٢) ركعتين ثم يحتبي و (نحن) (٣) حوله (فإن رأى) (٤) أحدًا منا نعس حركه (٥) قال: وكان ينعس وهو محتبٍ ثم تقام الصلاة فينهض ويصلي (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فجر طلوع ہونے کے بعد فجر کی سنتیں پڑھ کر حبوہ بنا کر بیٹھ جاتے، ہم آپ کے ارد گرد بیٹھ جاتے۔ جب وہ ہم میں سے کسی کو اونگھتا ہوا دیکھتے تو اسے ہلاتے، وہ حبوہ کی حالت میں خود بھی اونگھ رہے ہوتے تھے۔ پھر نماز کھڑی ہوجاتی تو وہ اٹھ کر جماعت میں شامل ہوجاتے۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [ب].
(٣) في [أ]: (نحر).
(٤) في [أ]: (فا رأى).
(٥) زيادة في [أ، ب]: (و).