حدیث نمبر: 6511
٦٥١١ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا أبو أسامة عن ابن عون قال: سألت إبراهيم عن (الرجل) (١) يوتر من آخر الليل وقد بقي عليه من الليل (قال) (٢) (فليستفتح) (٣) (فليقرأ) (٤) فإذا طلع الفجر ركع ركعة ثم يضم إليها أخرى فتكون ركعتي الفجر.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص رات کے بالکل آخری حصہ میں وتر کی نماز شروع کرے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ تکبیر تحریمہ کہہ کر قراءت کرے، جب فجر طلوع ہوجائے تو وہ ایک رکعت پڑھے، پھر اس کے ساتھ ایک اور رکعت ملائے، یہ دو رکعتیں فجر کی دوسنتیں ہوجائیں گی۔ میں نے اس بات کا ذکر حضرت محمد بن سیرین سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ یہ کیا ہے ؟

حواشی
(١) في [هـ]: (رجل).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [أ، ب، ط، هـ]: (فيستفتح).
(٤) في [ب، ط، هـ]: (فيقرأ).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6511
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6511، ترقيم محمد عوامة 6419)