مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في قوله ﵎: ﴿كانوا قليلا من الليل ما يهجعون﴾ باب: فرمانِ باری تعالی «كانُوا قَلِيلاً مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ» ( رات کے تھوڑے سے حصوں میں سوتے ہیں ) کی تفسیر
حدیث نمبر: 6447
٦٤٤٧ - حدثنا غندرعن ابن جريج عن عطاء ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ﴾ قال: ذلك إذ أمروا بقيام الليل وكان أبو ذر يحتجز احتجازة ويأخذ العصا فيعتمد عليها فكانوا كذلك حتى (نزلت) (١) الرخصة: ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ﴾ (٢) [المزمل: ٢٠].مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرمانِ باری تعالیٰ { کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ }(رات کے تھوڑے سے حصوں میں سوتے ہیں) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس آیت میں صحابہ کرام کو رات کے اکثر حصہ میں عبادت کا حکم دیا گیا تھا، حضرت ابو ذر اس آیت کے نزول کے بعد بستر کے قریب بھی نہ جاتے اور لاٹھی کے سہارے سے ساری رات عبادت کرتے۔ پھر اس آیت میں رات کی عبادت کے بارے میں رخصت نازل ہوئی { فَاقْرَؤُوا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ } قرآن میں سے جو تمہارے لئے ممکن ہو اس کی تلاوت کرلو۔
حواشی
(١) في [ط، هـ]: (أنزلت).
(٢) منقطع؛ عطاء لم يدرك أبا ذر.