مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الجمع بين الصلاتين في الليلة المطيرة باب: بارانی رات میں دو نمازوں کو جمع کرنے کا حکم
حدیث نمبر: 6412
٦٤١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا (عبيد اللَّه) (١) عن نافع قال: كانت أمراؤنا إذا كانت ليلة مطيرة أبطأوا بالمغرب وعجلوا (بالعشاء) (٢) قبل أن يغيب الشفق، فكان ابن عمر يصلّي معهم لا يرى بذلك بأسًا (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ بارانی راتوں میں ہمارے امراء مغرب کو تاخیر سے اور عشاء کو جلدی شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھتے تھے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ان کے ساتھ یونہی نماز پڑھ لیتے تھے اور اس میں کوئی حرج خیال نہ فرماتے تھے۔ حضرت عبید اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم اور حضرت سالم کو بھی ان کے ساتھ اسی طرح نماز پڑھتے دیکھا۔
حواشی
(١) في [جـ]: (عبد اللَّه).
(٢) في [جـ، ز]: (العشاء).