مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الأمة تصلي بغير خمار باب: کیا باندھی بغیر دوپٹے کے نماز پڑھ سکتی ہے؟
حدیث نمبر: 6383
٦٣٨٣ - حدثنا علي بن مسهر عن المختار بن فلفل عن أنس بن مالك قال: دَخَلَت على عمر بن الخطاب أمة (قد) (١) كان يعرفها لبعض (٢) المهاجرين أو الأنصار وعليها جلباب متقنعة به فسألها: عتقت؟ قالت: لا، قال: فما بال الجلباب؟ ضعيه ⦗٣٥٥⦘ عن رأسك إنما الجلباب على الحرائر من نساء المؤمنين (فتلكأت) (٣) فقام إليها بالدرة فضربها بها (برأسها) (٤) حتى ألقته عن رأسها (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب کے پاس ایک باندی آئی، وہ اسے کسی مہاجر یا انصاری کی وجہ سے جانتے تھے۔ اس پر ایک بڑی چادر تھی جس سے اس نے نقاب کر رکھا تھا۔ حضرت عمر نے اس سے سوال کیا کیا تم آزاد ہوگئی ہو ؟ اس نے کہا نہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ پھر یہ چادر کیوں اوڑھ رکھی ہے ؟ اسے اپنے سر سے اتار دو ، چادر تو آزاد مومن عورتوں کے سر پر ہوتی ہے۔ اس پر وہ باندی بہانے بنانے لگی۔ چناچہ حضرت عمر نے اپنا درہ اس کے سر پر مارا اور اس کی چادر اتار دی۔
حواشی
(١) في [أ]: (و).
(٢) في [هـ]: (ببعض).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (فتلكات)، وفي [ز، هـ]: (فتلكت).
(٤) في [أ، جـ، ك]: (رأسها)، وفي [ب]: (رأسه).