مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الصلاة في الثوب الواحد باب: ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا حکم
حدیث نمبر: 6337
٦٣٣٧ - حدثنا زيد بن حباب عن معاوية بن صالح عن موسى بن يزيد قال: (و) (١) سمعمت أبا (أمامة) (٢) وسئل عن الصلاة في القميص الواحد فقال: لا بأس به وفي الريطة إذا (توشحت بها) (٣) فلا بأس به (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ سے ایک قمیص میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ پھر ان سے ریطہ (نرم اور باریک کپڑا) میں نماز کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر کپڑے کو دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے کے اوپر ڈال لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ك، ز] زيادة: (و).
(٢) في [جـ، ك، ب، ز]: (أمامة)، وفي [أ، هـ]: (أسامة).
(٣) في [أ]: (إذا توشحت به)، وفي [ك]: (إذا توسخت بها).
(٤) مجهول؛ لجهالة موسى بن زيد.