مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الحامل تري الدم (أتصلي) أم لا؟ باب: حاملہ عورت کو اگر خون محسوس ہو تو وہ نماز پڑھے گی یا نہیں؟
حدیث نمبر: 6186
٦١٨٦ - حدثنا (إسماعيل) (١) عن أيوب قال: كتبت إلى نافع أسأله عن الحامل ترى الدم فكتب إلى: سألت سليمان بن يسار عن المرأة ترى الدم في غير حيض ولا نفاس، (فقال) (٢): تغتسل وتستثفر (٣) بثوب وتصلي.مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع کو خط لکھا اور ان سے اس حاملہ کے بارے میں سوال کیا جسے خون نظر آئے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت سلیمان بن یسار سے سوال کیا کہ اگر اسے حالت حیض اور حالت نفاس کے علاوہ کوئی خون نظر آئے تو وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ غسل کرے، کسی کپڑے سے خون روکے اور نماز پڑھے۔
حواشی
(١) في [ب، هـ]: (إسرائيل).
(٢) في [هـ]: (قال).
(٣) في [أ، ب، ز، ك]: (تستنفذ)، وفي [أ]: (تستذفر).