مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
القرب من المسجد أفضل أم البعد باب: مسجد سے قریب ہو نا زیادہ افضل ہے یا دور ہوتا ؟
٦١٤٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن التيمي عن أبي عثمان النهدي عن أبي بن كعب قال: كان رجل بالمدينة ما أعلم أحدًا من أهل المدينة ممن يصلي (١) القبلة أبعد منزلًا من المسجد منه، فكان يشهد الصلاة مع رسول اللَّه ﷺ فقيل (له) (٢): (لو) (٣) (ابتعت) (٤) حمارًا تركبه في الرمضاء والظلمة، فقال: واللَّه ما يسرني أن (منزلي) (٥) (بلزق) (٦) المسجد فذكر ذلك للنبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه، (كيما) (٧) يكتب خطاي (وإقبالي) (٨) وإدباري ورجوعي إلى أهلي، فقال رسول اللَّه ﷺ: (أنطاك) (٩) اللَّه ⦗٣٠٣⦘ ذلك وأعطاك ما احتسبت (أجمع) (١٠) " أو كما قال رسول اللَّه ﷺ (١١).حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ایک آدمی تھا اور میرے خیال میں قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے والوں میں مسجد سے سب سے زیادہ دور گھر اسی کا تھا۔ کسی نے اس سے کہا کہ تم گدھا لے لو تاکہ بارش اور اندھیرے وغیرہ میں اس پر سوار ہو کر مسجد آ جایا کرو۔ اس پر اس نے کہا کہ مجھے یہ بات بالکل پسند نہیں ہے کہ میرا گھر مسجد کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ اس بات کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا گیا اور اس نے بھی حاضر خدمت ہو کر عرض کیا کہ کیا مسجد کی طرف میرے آنے جانے والوں قدموں کو بھی میرے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے تمہیں یہ بھی عطا کردیا اور اس کے علاوہ جس عمل میں تم نے ثواب کی امید رکھی اللہ نے تمہیں وہ بھی عطا کردیا۔