مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
القرب من المسجد أفضل أم البعد باب: مسجد سے قریب ہو نا زیادہ افضل ہے یا دور ہوتا ؟
حدیث نمبر: 6142
٦١٤٢ - حدثنا وكيع عن موسى بن عبيدة عن أخيه عن جابر قال: كانت منازلنا قاصية فأردنا أن نتقرب من مسجد رسول اللَّه ﷺ فذكرنا ذلك له فقال: "لا تفعلوها إئتوها كما كنتم، ما من مؤمن يتوضأ فيحسن الوضوء ثم يخرج إلى المسجد إلا كتب اللَّه له بكل خطوة حسنة وحط (عنه) (١) بها سيئة" (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ہمارے گھر مسجد سے دور تھے، ہم نے ارادہ کیا کہ ہم مسجد نبوی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوجائیں۔ جب ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ فرمایا کہ ایسا نہ کرو، تم جہاں رہتے ہو وہیں سے آؤ، جب بھی کوئی مومن شخص اچھی طرح وضو کرے اور پھر مسجد کے ارادے سے نکلے تو ہر قدم پر اس کے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [ز].