حدیث نمبر: 6100
٦١٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة قال: قال ناس من أصحاب علي لعلي: ألا تحدثنا بصلاة رسول اللَّه ﷺ بالنهار (١) التطوع قال: فقال علي إنكم لن تطيقوها، (قال) (٢): فقالوا أخبرنا بها نأخذ منها ما أطقنا قال: فقال: كان إذا ارتفعت الشمس من مشرقها فكانت كهيئتها من المغرب من صلاة العصر صلى ركعتين، فإذا كانت من المشرق كهيئتها من الظهر من المغرب صلى أربع ركعات، وصلى قبل الظهر أربع ركعات وبعد الظهر ركعتين وصلى قبل العصر أربع ركعات يسلم في كل ركعتين على الملائكة المقربين والنبيين ⦗٢٩٠⦘ ومن تبعهم من المؤمنين والمسلمين (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کچھ شاگردوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ہمیں بتائیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دن میں کیسے نوافل پڑھا کرتے تھے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم میں ان کی ادائیگی کی طاقت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہمیں بتا دیجئے، جتنی ہم میں طاقت ہوگی اس کے مطابق ہم عمل کرلیں گے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب سورج مشرق کی طرف سے اتنا بلند ہوجاتا جتنا عصر کے وقت مغرب کی طرف سے بلند ہوتا ہے تو آپ دو رکعتیں پڑھتے۔ پھر جب مشرق کی طرف سے اتنا بلند ہوجاتا جتنا ظہر کے وقت مغرب کی طرف سے بلند ہوتا ہے تو چار رکعتیں پڑھتے۔ پھر ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے اور ظہر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے۔ اور عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے جن کی ہر دو رکعتوں میں مقرب فرشتوں، انبیاء اور ان کی اتباع کرنے والے مسلمانوں اور مومنین کے لئے سلامتی کی دعا کرتے تھے۔

حواشی
(١) في [أ، ك] زيادة: (و).
(٢) في [أ، ب، جـ، ز، ك، هـ] زيادة: (قال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 6100
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عاصم بن ضمرة صدوق، أخرجه عبد اللَّه (١٢٠٢)، وابن ماجه (١١٦١)، وأبو يعلى (٦٢٢)، والترمذي (٤٢٤)، وعبد الرزاق (٤٨٥٦)، والبزار (٦٧٦)، والطيالسي (١٢٨)، والنسائي ٢/ ١٢٠، والبيهقي ٢/ ٤٨٣، وابن خزيمة (١٢٣٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6100، ترقيم محمد عوامة 6018)