مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الصلاة بين المغرب والعشاء باب: مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 6066
٦٠٦٦ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة قال: صليت إلى جنب (حسن) (١) بن علي المغرب ثم صليت] (٢) ركعتين بعد المغرب، ثم ⦗٢٨١⦘ قمت أصلي (فنهرني) (٣) وقال: إنما هما ركعتان (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پہلو میں مغرب کی نماز پڑھی پھر میں نے مغرب کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، میں پھر کھڑا ہونے لگا تو انہوں نے مجھے ڈانٹا اور فرمایا کہ مغرب کے بعد دو رکعتیں ہوتی ہیں۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (حسين)، وانظر: مصنف عبد الرزاق (٤٧٢٩)، وتفسيره ٣/ ٢٤٠، وتفسير ابن جرير ٢٦/ ١٨١، ومختصر قيام الليل لابن نصر ص ٣٣.
(٢) سقط ما بين المعكوفين من: [أ].
(٣) في [أ، ب]: (فمر بي).
(٤) منقطع حكمًا؛ أبو إسحاق مدلس.