مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
من كان لا يتوضأ مما مست النار باب: جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس کے استعمال سے وضو نہیں ٹوٹتا
حدیث نمبر: 549
٥٤٩ - حدثنا إسماعيل بن علية عن ابن عون عن ابن سيرين قال: (أتيت عبيدة، فأمر بشاة فذبحت، فدعا بخبز ولبن وسمن، فأكلنا، ثم قام فصلى ولم يتوضأ؛ فظننت أنه كان أحب إليه أن يتوضأ لولا أنه أراد أن يريني (أنه) (١) ليس به بأس.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبیدہ کے پاس آیا۔ انہوں نے بکری ذبح کرنے کا حکم دیا، بکری ذبح کی گئی پھر آپ نے روٹی، دودھ اور چربی منگوائی ہم نے سب چیزیں کھائیں، پھر انہوں نے وضو کئے بغیر نماز پڑھ لی۔ میرا ان کے بارے میں یہ گمان تھا کہ وہ وضو کرنا پسند کرتے ہیں لیکن شاید وہ دکھانا چاہتے تھے کہ وضو نہ کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
حواشی
(١) في [ك]: (أن).