مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمعة
من كان يقيل بعد الجمعة ويقول: هي أول النهار باب: جو حضرات جمعہ کی نماز کے بعد قیلولہ کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ جمعہ کا وقت دن کا ابتدائی حصہ ہے
حدیث نمبر: 5236
٥٢٣٦ - حدثنا وكيع عن جعفر بن برقان عن ثابت بن الحجاج الكلابي عن عبد اللَّه بن سيدان السلمي قال: شهدت الجمعة مع أبي بكر الصديق فكانت خطبته وصلاته قبل نصف النهار، ثم شهدنا مع عمر فكانت خطبته وصلاته إلى أن أقول (انتصف) (١) النهار، ثم شهدنا مع عثمان فكانت خطبته وصلاته إلى أن أقول: زال النهار، فما رأيت أحدا عاب ذلك ولا أنكره (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا للہ بن سیدان سلمی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکر کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی، ان کی نماز اور خطبہ نصفِ نہار سے پہلے ہوا کرتے تھے۔ پھر ہم نے حضرت عمر کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی، ان کی نماز اور خطبہ اس وقت ہوتا تھا جب میں کہہ سکتا تھا کہ آدھا دن گذر گیا۔ پھر ہم نے حضرت عثمان کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی، ان کی نماز اور خطبہ اس وقت ہوتے تھے جب میں کہہ سکتا تھا کہ دن زائل ہوگیا۔ میں نے کسی کو اس عمل پر عیب نکالتے یا تنقید کرتے نہیں دیکھا۔
حواشی
(١) في [د، ط، هـ]: (تنصف)، وفي [أ]: (بنصف).
(٢) مجهول؛ لجهالة ثابت بن الحجاج، قال البخاري عن ابن سيدان: لا يتابع على حديثه، وقال ابن الجوزي: ليس بالقوي، وقال ابن عدي: شبه المجهول، وقال ابن حجر: تابعي كبير غير معروف العدالة، وأخرجه الدارقطني ٢/ ١٧، وعبد الرزاق (٥٢١٠)، والبخاري في التاريخ ٥/ ١١٠، والعقيلي ٢/ ٢٦٥، وابن المنذر في الأوسط ٢/ ٣٥٤ (٩٩٥)، كما أخرجه أحمد كما في المغني ٢/ ١٠٥، وأبو نعيم في كتاب الصلاة كما في تغليق التعليق ٢/ ٣٥٦.