مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
من (كان) يقول: إذا كنت في ماء وطين فأومئ إيماء باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر تم کیچڑ میں نماز پڑھ رہے ہو تو اشارے سے سجدہ کر لو
حدیث نمبر: 5057
٥٠٥٧ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن أنس بن سيرين قال أقبلت مع أنس بن مالك من الكوفة حتى إذا كنا (بأطط) (١) وقد أخذتنا السماء قبل ذلك والأرض (ضحضاح) (٢) فصلى أنس وهو على حمار مستقبل القبلة وأومأ إيماء وجعل السجود أخفض من الركوع (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن سیرین فرماتے ہیں کہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ میں تھا۔ جب ہم مقام أطط میں تھے تو ہمارے وہاں آنے سے پہلے بارش ہوگئی اور زمین پر کیچڑ ہوگیا۔ حضرت انس نے اپنی سواری پر سوار ہو کر قبلہ رخ نماز پڑھی اور سجدہ اشارے سے کیا۔ اور سجود کو رکوع سے زیادہ جھکا ہوا بنایا
حواشی
(١) سقطت: في [جـ]، وفي [أ]: (بأطيط).
(٢) في [د، هـ]: (ضخضاخ)، وفي [أ]: (ضحضا).